سری لنکا: معاشی بحران ٹھیک ہونے سے پہلے مزید بدتر ہو گا، سری لنکن وزیراعظم کا انتباہ

  • رجنی ویدیا ناتھن
  • بی بی سی جنوبی ایشیا

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشن

زیادہ تر لوگ رانیل وکرما سنگھے کے وزیراعظم بننے سے کوئی خاص خوش نہیں کیونکہ انھیں راجا پاکسے خاندان کے بہت قریبی سمجھا جاتا ہے

سری لنکا کے نئے وزیر اعظم رانیل وکرما سنگھے نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ملک میں بدحالی اور بدامنی کو جنم دینے والا معاشی بحران ’ٹھیک ہونے سے پہلے مزید بدتر ہو گا۔‘

سری لنکا کو ایندھن کی قلت اور خوراک کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا سامنا ہے، حالات اتنے خراب ہو چکے ہیں کہ کچھ سری لنکن شہری ایک وقت کا کھانا چھوڑنے پر مجبور ہیں۔

حکومت نے جس طرح سے بحران سے نمٹنے کی کوشش کی ہے، اس حوالے سے عوام میں شدید غصہ پایا جاتا ہے اور یہی چیز پرتشدد مظاہروں کا باعث بنی۔

مظاہروں کو کم کرنے کے لیے اپوزیشن رکن رانیل وکرما سنگھے کو نیا وزیرِاعظم بنایا گیا تھا۔ وہ چھٹی مرتبہ ملک کے وزیر اعظم بنے ہیں۔

عہدہ سنبھالنے کے بعد اپنے پہلے انٹرویو میں وکرما سنگھے نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ یہ یقینی بنائیں گے کہ سری لنکا میں رہنے والے خاندان دن میں تین وقت کا کھانا کھا سکیں۔

دنیا سے مزید مالی مدد کی اپیل کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’ہم خوراک حاصل کر لیں گے اور بھوک ختم ہو جائے گی۔‘

نئے وزیر اعظم کے مطابق سری لنکا کی معیشت برباد ہو چکی ہے تاہم سری لنکن عوام کے لیے ان کا پیغام تھا کہ ’صبر کریں، میں چیزوں کو واپس پہلے والی صورتحال پر لے آؤں گا۔‘

صدر گوتابایا راجا پکسے نے جمعرات کو وکرما سنگھے سے حلف لیا، زیادہ تر لوگ ان کے وزیراعظم بننے سے کوئی خاص خوش نہیں کیونکہ انھیں راجا پاکسے خاندان کے بہت قریبی سمجھا جاتا ہے۔

اپنے انٹرویو میں وکرما سنگھے نے کہا کہ وہ صدر راجا پاکسے سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کرنے والے مظاہرین کے جذبات سے اتفاق کرتے ہیں تاہم ان کا کہنا تھا کہ ایسا نہیں ہو گا ’الزام لگانے سے کچھ حاصل نہیں ہو گا، میں یہاں لوگوں کی حالت بہتر بنانے آیا ہوں۔‘

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشن

ضروری اشیا کے لیے لمبی قطاریں اب سری لنکا میں روزمرہ کی زندگی کا حصہ ہیں مگر صرف ان لوگوں کے لیے جو انھیں خریدنے کی استطاعت رکھتے ہیں

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

لیکن انھوں نے مزید کہا کہ وہ ’راجا پاکسے حکومت کی تمام پالیسیوں کو تبدیل کرنے جا رہے ہیں۔‘

انھوں نے عالمی برادری سے بھی مدد کی اپیل کی۔

انھوں نے کہا کہ ’ہمیں ایک سال کے لیے آپ کی مدد کی ضرورت ہے، جو کچھ بھی ہم آپ سے ادھار لیں گے، وہ واپس کر دیں گے۔ ملک کی حالت بہتر کرنے میں ہماری مدد کریں۔ ہم ایشیا کی سب سے بڑی اور پرانی جمہوریت ہیں۔‘

سری لنکا کی معیشت زبوں حالی کا شکار ہے۔ خوراک، ادویات اور ایندھن ختم ہو چکے ہیں یا انھیں خریدنا استطاعت سے باہر ہو چکا ہے۔ پٹرول سٹیشنز پر ٹینک بھرنے کے انتظار میں کچھ لوگ جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

سنہ 1948 میں برطانیہ سے آزادی حاصل کرنے کے بعد سے یہ اس جزیرہ نما ملک میں آنے والا یہ بدترین معاشی بحران ہے۔

ایک 68 برس کی خاتون نے دارالحکومت کولمبو میں خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ’ہمارے پاس مٹی کا تیل نہیں، پیٹرول نہیں، ڈیزل نہیں، کھانا پکانے کے لیے گیس نہیں اور ہمارے پاس لکڑیوں سے جلنے والے چولہے تک نہیں۔‘

’اپنے بچوں کو کھانا کھلانے کے لیے ہم روزانہ کی بنیاد پر بہت مشکل صورتحال سے گزر رہے ہیں۔ پچھلے کچھ دنوں میں کھانے پینے کی اشیا کی قیمتیں تین گنا بڑھ گئی ہیں۔ ہم ایسے حالات میں کیسے گزارہ کریں۔‘

سری لنکا کی معاشی پریشانیوں کی بڑی وجہ یہ ہے کہ یہ ملک درآمدات پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے۔

جہاں کووڈ کی وبا نے معیشت کو نقصان پہنچایا وہیں سنہ 2019 کے چرچ بم دھماکوں سے سیاحت کو بھی نقصان پہنچا لیکن ماہرین بدانتظامی کو بھی معاشی بدحالی کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہEPA

سری لنکا کے بارے میں کچھ بنیادی باتیں

  • سری لنکا جنوبی انڈیا سے دور ایک جزیرہ نما ملک ہے: اس نے سنہ 1948 میں برطانوی حکومت سے آزادی حاصل کی۔ یہاں تین نسلی گروہ آباد ہیں جن میں سنہالی، تامل اور مسلمان شامل ہیں جو ملک کی 22 ملین آبادی کا 99 فیصد ہیں۔
  • برسوں سے ایک ہی خاندان یہاں برسرِ اقتدار چلا آ رہا ہے : سنہ 2009 میں مہندا راجا پکسے سنہالی اکثریت میں اس وقت ایک ہیرو بن گئے جب ان کی حکومت نے برسوں کی تلخ اور خونریز خانہ جنگی کے بعد تامل علیحدگی پسند باغیوں کو شکست دی۔ ان کے بھائی گوتابایا جو اس وقت وزیر دفاع تھے، اب صدر ہیں۔
  • معاشی بحران نے سڑکوں پر ہنگامے برپا کر رکھے ہیں: بڑھتی ہوئی مہنگائی کا مطلب ہے کہ کھانے پینے کی اشیا، ادویات اور ایندھن کی قلت ہے، بجلی کا بحران ہے، عام لوگ غصے میں سڑکوں پر نکل آئے ہیں اور بہت سے لوگ اس صورتحال کے لیے راجا پاکسے خاندان اور ان کی حکومت کو ذمہ دار مانتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

مظاہرین سمجھتے ہیں راجا پاکشے خاندان حالیہ معاشی بحران کا ذمہ دار ہے

یہ بھی پڑھیے

یاد رہے اس سے قبل سری لنکا میں مشتعل مظاہرین نے حکومت کے حامیوں سے پرتشدد جھڑپوں کے بعد حکمران راجا پکشے خاندان اور متعدد اراکین اسمبلی کے مکانات کو نذرِ آتش کر دیا تھا۔

سری لنکا میں معاشی بحران کی وجہ سے شروع ہونے والے احتجاج کے نتیجے میں وزیراعظم مہندا راجا پکشے نے پیر کو استعفیٰ دے دیا تھا لیکن اس کے باوجود تشدد کا سلسلہ تھم نہیں سکا۔

سری لنکن فوج نے تصدیق کی ہے کہ صدر کے بڑے بھائی اور خود دو مرتبہ صدر رہنے والے مہندا راجاپکشے ملک کے شمال مشرق میں حفاظت کی غرض سے ایک بحری اڈے پر پناہ لیے ہوئے ہیں۔

ملک گیر کرفیو کے باوجود مختلف شہروں میں آتش گیر مادے سے حملے جاری ہیں اور کولمبو کے قریب دکانوں اور سابق وزیر اعظم مہندا راجا پکشے کے بیٹے کی ایک نجی تفریح گاہ کو نذر آتش کر دیا گیا۔

حکومت مخالف مظاہرین نے مہندا راجا پکشے کی سرکاری رہائش گاہ کا محاصرہ کرنے کی بھی کوشش کی تھی۔

پیر سے جاری بدامنی کے واقعات میں کم از کم نو افراد ہلاک اور تقریباً 200 زخمی ہو چکے ہیں۔

حزب اختلاف کے سیاستدانوں نے خبردار کیا ہے کہ فوج کو اقتدار پر قبضہ کرنے کا بہانہ دینے کے لیے تشدد کے واقعات کو ہوا دی جا سکتی ہے۔ سڑکوں پر بکتر بند گاڑیوں کے ساتھ بڑی تعداد میں فوجیوں کی موجودگی سے بھی ممکنہ بغاوت کی افواہوں کو ہوا ملی ہے تاہم فوج نے اس بات کی تردید کی تھی۔

سکریٹری دفاع کمل گنارتنے نے ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ جب ملک میں خطرناک صورتحال ہوتی ہے تو فوج کو اس سے نمٹنے کے لیے اختیارات دیے جاتے ہیں۔

’کبھی یہ مت سوچیں کہ ہم اقتدار پر قبضہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ فوج کا ایسا کوئی ارادہ نہیں۔‘

سری لنکا میں سنگین مالی اور معاشی صورتحال کی وجہ سے کئی ہفتوں سے مظاہرے ہو رہے ہیں۔ سری لنکن روپے کی قدر بہت گر چکی ہے اور خوراک، ایندھن اور طبی سامان جیسی بنیادی اشیا کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے۔

پیر اور منگل کی رات سب سے زیادہ تباہی دارالحکومت کولمبو کے شمال میں ہوئی جہاں حریف گروپوں نے نیگومبو قصبے میں دکانوں کو آگ لگا دی۔

پیر کی رات کو ہجوم نے سیاستدانوں کے 50 سے زائد مکانات جلا دیے جبکہ ملک کے جنوب میں ان کے روایتی مرکز، ہمبنٹوٹا میں راجا پاکشے خاندان کے لیے وقف ایک متنازعہ میوزیم کو بھی منہدم کر دیا گیا۔